رائے پور :28/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)چھتیس گڑھ میں کانگریس کو ملی جیت کے بعد پہلی بار راہل گاندھی دارالحکومت رائے پور پہنچے۔راہل نے یہاں کسان کانفرنس میں حصہ لیا۔اس پروگرام کے دوران راہل گاندھی نے ایک جلسہ عام کو بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ تین ریاستوں میں ملی جیت کے بعد طے ہو گیا کہ ملک میں مودی حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔2019 کے انتخابات پر بحث کے دوران کانگریس صدر نے عوام سے کہا کہ اب ہم وہ کرنے جا رہے ہیں جو دنیا میں آج تک کسی بھی حکومت نے نہیں کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں کانگریس پارٹی کی حکومت ملک میں ہر شہری کو کم از کم آمدنی کی ضمانت دے گی۔اس دوران راہل نے کئی مسائل پر چھتیس گڑھ کی سابق بی جے پی حکومت اور مرکز کی موجودہ مودی حکومت پر جم کر نشانہ لگایا۔کسانوں کے قرضش معافی پر راہل گاندھی نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ہم نے غریبوں کے لیے ریلی نکالی، کسانوں کے لیے بات کی۔کسانوں کے قرضے کی بات کہی تو حکومت نے کہا کہ پیسہ نہیں ہے۔صرف چھتیس گڑھ میں نہیں بلکہ مدھیہ پردیش میں بھی ہم نے شیوراج سنگھ سے بھی یہیں بات کہی تو انہوں نے بھی کہا کہ پیسہ نہیں ہے ادھر مرکز میں مودی حکومت بھی خاموش رہتی ہے۔ہم نے ان سے پوچھا کہ ملک کے صنعت کاروں کے لیے خزانہ کھول دیا جاتا ہے۔وہ کروڑوں لے کرکہیں غائب ہوجاتے ہیں۔راہل گاندھی نے کہا چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے لیڈر 15 سال میں نہیں کرپائے۔ ہم نے 24 گھنٹے میں کر دیا۔راہل گاندھی نے کہا کہ پلاننگ ہوتی ہے اور کمٹمنٹ ہوتا ہے۔ہم نے عوام سے 10 دنوں کی بات کہی تھی لیکن بھوپیش بگھیل اور میرے درمیان میں بات ہوئی تھی کہ 2 دن میں کسانوں کاقرضہ معاف کرنا ہے۔اور ہم نے 24 گھنٹے میں ایساکردکھایا۔جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ہم نے غریبوں کے لئے ریلی نکالی کسانوں کے لئے بات کی۔کسانوں کے قرضے کی بات کہی تو حکومت نے کہا کہ پیسہ نہیں ہے۔رافیل معاملے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ میں رافیل ہوائی جہاز ہندوستان میں نہیں بنے گا۔روزگار ہندوستان کے نوجوانوں کو نہیں ملا۔اور ایک رافیل کی قیمت1600 کروڑ روپے حکومت ہند دے گی۔مودی حکومت چاہتی ہے کہ غریب آدھی آدھی روٹی کھائے اور انل امبانی زیادہ پیسہ کمائے۔ایسا ہندوستان ہم نہیں بننے دیں گے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔